لڑکے اور لڑکیوں کی شادی میں دیری کا بڑھتا ھوا خطرناک رجحان

لڑکے اور لڑکیوں کی شادی میں دیری کا بڑھتا ھوا خطرناک رجحان 👌 ایک لمحۂ فکریہ👌

آج سے تقریبًا پندرہ سال پہلے معاشرے کا جو رجحان تھا، اس کے مطابق جس لڑکی کی شادی پچیس سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی، تو ایسی شادی کو بروقت گردانا جاتا۔ پچیس سال کی عمر کا ھندسہ عبور کرنے کا یہ مطلب لیا جاتا کہ لڑکی کے رشتہ میں دیر ھو گئی ھے.....

♢♢اس سے پہلے کا معلوم نہیں لیکن ھو سکتا ھے کہ دیری کا یہ پیمانہ تین چار سال پہلے تصور کیا جاتا ھو...

پھر سات آٹھ سال پہلے یہ صورتحال ھوئی کہ تیس سال کی عمر سے پہلے پہلے لڑکی کی شادی بروقت قرار دئے جانے لگی۔ یعنی محض سات آٹھ سال میں پانچ سال کا فرق آ گیا۔

اب بھی ایسے معاملات ھیں کہ اکثر گھروں میں لڑکیوں کی عمریں تیس سے چالیس سال کے درمیان ھو چکی ھیں لیکن رشتہ " ندارد "۔

یہ رشتہ میں دیری کا رجحان ھمارے معاشرے میں ایسی خاموش دراڑیں ڈال رھا ھے جو معاشرتی ڈھانچے کے زمین بوس ھو…

Read more about لڑکے اور لڑکیوں کی شادی میں دیری کا بڑھتا ھوا خطرناک رجحان
  • 0